13 جون 2026 - 19:17
حصۂ چہارم خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایلون مسک کے اثاثے ایران کے لئے جائز فوجی ہدف کیوں ہیں؟

عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بادی النظر میں، ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ عرب ممالک کا تعاون بنیادی طور پر تجارتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن، سیکیورٹی اور دفاعی مطالعات کے نقطہ نظر سے، اس رجحان کی اہمیت کہیں اور ہے۔ SpaceX، Starlink اور xAI کمپنیوں میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کا ایک اہم حصہ دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجیز جو اگرچہ تجارتی مقاصد کے ساتھ تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کے استعمال کی اصل صلاحیت فوجی، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی شعبوں میں بروئے کار آتی ہے۔

حصۂ چہارم:

اردن؛ ایک کشیدہ ماحول میں سیٹلائٹ مواصلات کی ترقی

اردن بھی حالیہ برسوں میں اسٹارلنک خدمات استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

یہ ملک شام، عراق اور اسرائیل سے مجاورت کی وجہ سے سلامتی کے لحاظ سے خصوصی سیکیورٹی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں سیٹلائٹ مواصلات کی ترقی، مواصلاتی استحکام میں اضافہ، انفراسٹرکچرل کوریج کی توسیع، اور بحران کے انتظام کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

سرکاری، تعلیمی اور حکومتی اداروں کے لئے اسٹارلنک خدمات کی دوبارہ فروخت میں Sama X کمپنی کی سرگرمی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عام استعمال سے آگے بڑھ کر دوسرے شعبوں میں داخل ہو رہی ہے۔

خلاصہ

موجودہ رجحانات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک محض مسک کے ماحولیاتی نظام کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کے خواہاں نہیں ہیں؛ بلکہ ان شراکتوں کے ذریعے، وہ "دوہرے استعمال" (Dual-use) کی صلاحیت اور ممکنہ فوجی و سیکیورٹی اثرات کی حامل ٹیکنالوجیز تک رسائی کے لئے کوشاں ہیں۔

اس اثناء میں،

• سعودی عرب نے xAI میں سرمایہ کاری کے راستے مصنوعی ذہانت اور پروسیسنگ صلاحیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔

• امارات خلائی انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔

• عمان نے اسٹارلنک کے استعمال کے علاوہ، xAI اور SpaceX میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس میدان میں قدم رکھا ہے، جبکہ

• قطر اور اردن نے سیٹلائٹ مواصلاتی نیٹ ورکس کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔

نتیجتاً، اصل مسئلہ روایتی ہتھیاروں کی خریداری نہیں، بلکہ ان ممالک کی مستقبل کی فوجی طاقت کے چار کلیدی اجزاء میں تزویراتی سرمایہ کاری ہے:

• سیٹلائٹ مواصلات،

• خلائی انفراسٹرکچر،

• مصنوعی ذہانت اور

• پروسیسنگ صلاحیت۔

اگرچہ یہ سرمایہ کاریاں خود بخود خطرہ تصور نہیں کی جاتیں، لیکن ریاستہائے متحدہ کی موجودہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انہی ڈھانچوں کا استعمال ایک اہم معاملہ ہے۔ یہ معاملہ ان ڈھانچوں کو قومی سلامتی کے تحفظ اور خطرات کے جواب میں ایران کے جائز اہداف میں تبدیل کر دیتا ہے۔

چنانچہ ایک باغی گروپ کے کسی ملک میں پناہ لینے کی وجہ سے اس ملک پر بمباری کرنے والے ممالک کے حکمرانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایران کے حملوں کو ان عرب ممالک پر جارحیت قرار دیں، ان کی مذمت کریں اور اپنے ملک کے شیعہ راہنماؤں سے کہہ دیں کہ بھی ہم تو خلیج فارس کی ایک عرب ریاست کے اسٹراٹیجک شراکت دار ہیں چنانچہ ہم اس ملک کے دفاع کے طور پر، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں کود جائیں گے، اور اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو ایران چلے جاؤ۔ کیونکہ یہ عرب ممالک امریکہ کے مورچوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہی زعماء ایسے حکام سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر تمہیں امریکہ اور اسرائیل اور ٹرمپ اور نیتن یاہو اتنے ہی پیارے ہیں کہ ان کی خاطر ایک اسلامی ملک کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتے ہو، تو تم خود تل ابیب یا واشنگٹن میں کیوں نہیں جا بستے؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha